رزم و بزم

قسم کلام: اسم ظرف زمان

معنی

١ - میدان جنگ اور محفل عیش، لڑائی اور عیش و عشرت، نرم و گرم حالت، زندگی کے نشیب و فراز۔ "کہ یں رزم و بزم کے بیان سے اس طویل نظم (قصیدہ) میں رنگ آمیزی کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٩٦:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رزم' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی اسم 'بزم' لگانے سے مرکب عطفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٧ء کو "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتان ہے۔

مثالیں

١ - میدان جنگ اور محفل عیش، لڑائی اور عیش و عشرت، نرم و گرم حالت، زندگی کے نشیب و فراز۔ "کہ یں رزم و بزم کے بیان سے اس طویل نظم (قصیدہ) میں رنگ آمیزی کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٦٩٦:٢ )

جنس: مؤنث